اردو اردو
Surah نازعات () - Aya count 46
وَالنَّازِعَاتِ غَرْقًا
( 1 ) 
جورڑوں میں گھس کر نکالنے والوں کی قسم ہے

وَالنَّاشِطَاتِ نَشْطًا
( 2 ) 
اور بند کھولنے والوں کی

وَالسَّابِحَاتِ سَبْحًا
( 3 ) 
اورتیزی سے تیرنے والوں کی

فَالسَّابِقَاتِ سَبْقًا
( 4 ) 
پھر دوڑ کر آگے بڑھ جانے والوں کی

فَالْمُدَبِّرَاتِ أَمْرًا
( 5 ) 
پھر ہر امر کی تدبیر کرنے والوں کی

يَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَةُ
( 6 ) 
جس دن کانپنے والی کانپے گی

تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُ
( 7 ) 
اس کے پیچھے آنے والی پیچھے آئے گی

قُلُوبٌ يَوْمَئِذٍ وَاجِفَةٌ
( 8 ) 
کئی دل اس دن دھڑک رہے ہوں گے

أَبْصَارُهَا خَاشِعَةٌ
( 9 ) 
ان کی آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی

يَقُولُونَ أَإِنَّا لَمَرْدُودُونَ فِي الْحَافِرَةِ
( 10 ) 
وہ کہتے ہیں کیا ہم پہلی حالت میں لوٹائے جائیں گے

أَإِذَا كُنَّا عِظَامًا نَّخِرَةً
( 11 ) 
کیا جب ہم بوسیدہ ہڈیاں ہوجائیں گے

قَالُوا تِلْكَ إِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌ
( 12 ) 
کہتے ہیں کہ یہ تو اس وقت خسارہ کا لوٹنا ہوگا

فَإِنَّمَا هِيَ زَجْرَةٌ وَاحِدَةٌ
( 13 ) 
پھر وہ واقعہ صرف ایک ہی ہیبت ناک آواز ہے

فَإِذَا هُم بِالسَّاهِرَةِ
( 14 ) 
پس وہ اسی وقت میدان میں آ موجود ہوں گے

هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ مُوسَىٰ
( 15 ) 
کیا آپ کو موسیٰ کا حال معلوم ہوا ہے

إِذْ نَادَاهُ رَبُّهُ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى
( 16 ) 
جب کہ مقدس وادی طویٰ میں اس کے رب نے اسےپکارا

اذْهَبْ إِلَىٰ فِرْعَوْنَ إِنَّهُ طَغَىٰ
( 17 ) 
فرعون کے پاس جاؤ کیونکہ اس نے سرکشی کی ہے

فَقُلْ هَل لَّكَ إِلَىٰ أَن تَزَكَّىٰ
( 18 ) 
پس کہو کیا تیری خواہش ہے کہ تو پاک ہو

وَأَهْدِيَكَ إِلَىٰ رَبِّكَ فَتَخْشَىٰ
( 19 ) 
اور میں تجھے تیرے رب کی طرف راہ بتاؤں کہ تو ڈرے

فَأَرَاهُ الْآيَةَ الْكُبْرَىٰ
( 20 ) 
پس اس نے اس کو بڑی نشانی دکھائی

فَكَذَّبَ وَعَصَىٰ
( 21 ) 
تو اس نے جھٹلایا اور نافرمانی کی

ثُمَّ أَدْبَرَ يَسْعَىٰ
( 22 ) 
پھر کوشش کرتا ہوا واپس لوٹا

فَحَشَرَ فَنَادَىٰ
( 23 ) 
پھر اس نے سب کو جمع کیا پھر پکارا

فَقَالَ أَنَا رَبُّكُمُ الْأَعْلَىٰ
( 24 ) 
پھر کہا کہ میں تمہارا سب سے برتر رب ہوں

فَأَخَذَهُ اللَّهُ نَكَالَ الْآخِرَةِ وَالْأُولَىٰ
( 25 ) 
پھر الله نے اس کو آخرت اور دنیا کے عذاب میں پکڑ لیا

إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّمَن يَخْشَىٰ
( 26 ) 
بے شک اس میں اس کے لیے عبرت ہے جو ڈرتا ہے

أَأَنتُمْ أَشَدُّ خَلْقًا أَمِ السَّمَاءُ ۚ بَنَاهَا
( 27 ) 
کیا تمہارا بنانا بڑی بات ہے یا آسمان کا جس کو ہم نے بنایا ہے

رَفَعَ سَمْكَهَا فَسَوَّاهَا
( 28 ) 
ا سکی چھت بلند کی پھر اس کو سنوارا

وَأَغْطَشَ لَيْلَهَا وَأَخْرَجَ ضُحَاهَا
( 29 ) 
اور اس کی رات اندھیری کی اور اس کے دن کو ظاہر کیا

وَالْأَرْضَ بَعْدَ ذَٰلِكَ دَحَاهَا
( 30 ) 
اور اس کے بعد زمین کو بچھا دیا

أَخْرَجَ مِنْهَا مَاءَهَا وَمَرْعَاهَا
( 31 ) 
اس سے اس کا پانی اور اس کا چارا نکالا

وَالْجِبَالَ أَرْسَاهَا
( 32 ) 
او رپہاڑوں کو خوب جما دیا

مَتَاعًا لَّكُمْ وَلِأَنْعَامِكُمْ
( 33 ) 
تمہارے لیے اور تمہارے چار پایوں کے لیے سامان حیات ہے

فَإِذَا جَاءَتِ الطَّامَّةُ الْكُبْرَىٰ
( 34 ) 
پس جب وہ بڑا حادثہ آئے گا

يَوْمَ يَتَذَكَّرُ الْإِنسَانُ مَا سَعَىٰ
( 35 ) 
جس دن انسان اپنے کیے کو یاد کرے گا

وَبُرِّزَتِ الْجَحِيمُ لِمَن يَرَىٰ
( 36 ) 
اور ہر دیکھنے والے کے لیے دوزخ سامنے لائی جائے گی

فَأَمَّا مَن طَغَىٰ
( 37 ) 
سو جس نے سرکشی کی

وَآثَرَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا
( 38 ) 
اور دنیا کی زندگی کو ترجیح دی

فَإِنَّ الْجَحِيمَ هِيَ الْمَأْوَىٰ
( 39 ) 
سو بے شک اس کا ٹھکانا دوزخ ہی ہے

وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَىٰ
( 40 ) 
اور لیکن جو اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرتارہا اور اس نے اپنے نفس کو بری خواہش سے روکا

فَإِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَأْوَىٰ
( 41 ) 
سو بے شک اس کا ٹھکانا بہشت ہی ہے

يَسْأَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ أَيَّانَ مُرْسَاهَا
( 42 ) 
آپ سے قیامت کی بابت پوچھتے ہیں کہ اس کا قیام کب ہوگا

فِيمَ أَنتَ مِن ذِكْرَاهَا
( 43 ) 
آپ کو اس کےذکر سے کیا واسطہ

إِلَىٰ رَبِّكَ مُنتَهَاهَا
( 44 ) 
اس کے علم کی انتہا آپ کے رب ہی کی طرف ہے

إِنَّمَا أَنتَ مُنذِرُ مَن يَخْشَاهَا
( 45 ) 
بے شک آپ تو صرف اس کو ڈرانے والے ہیں جو اس سے ڈرتا ہے

كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَهَا لَمْ يَلْبَثُوا إِلَّا عَشِيَّةً أَوْ ضُحَاهَا
( 46 ) 
جس دن اسے دیکھ لیں گے (تو یہی سمجھیں گے کہ دنیا میں) گویا ہم ایک شام یا اس کی صبح تک ٹھیرے تھے
